April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
الشوكولا

مراکش کے شہری صلاح الدین مرتقی نے مراکش کی مستند چاکلیٹ کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کے لیے، اس صنعت کی تجدید پر کام کرتے ہوئے ، شروع سے آخر تک پروڈکشن چینز حاصل کر کے ایک مربوط پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

2017 کے بعد صلاح الدین مرتقی نے اس پیشہ ورانہ اور علمی بنیاد کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جو انہوں نے طویل سالوں کے دوران مطالعے، تجربے اور کئی ممالک کے سفر کے دوران حاصل کی تھی، تاکہ چاکلیٹ اس انداز میں تیار کی جا سکے جو خالص مراکشی ذائقوں کے ساتھ بین الاقوامی خصوصیات کو یکجا کرتی ہو۔

مرتقی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اس تجربے کے بارے میں بات چیت میں کہا کہ “چاکلیٹ گیلری” پروجیکٹ کو شروع کرنے کا خیال ان کے بچپن سے شروع ہونے والے تجربات کے نتیجے میں آیا۔ ہر شام اسکول سے واپس آنے کے بعد، وہ مراکش کی روایتی مٹھائیاں بیچتے تھے جو ان کی والدہ ہاتھ سے تیار کرتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ”میری والدہ روایتی کھانے بنانے میں مہارت کے علاوہ مٹھائیاں تیار کرنے میں بھی ماہر تھیں۔ میں ان کی تخلیقات پر ہمیشہ حیران رہتا تھا۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ میں سمجھ گیا کہ مصنوعات کی تیاری میں ہاتھ کا استعمال اسے مزید ذائقہ دار بنا دیتا ہے۔

دوسرے ملکوں کے سفر،بین الاقوامی نمائشوں کے دورے اور متعدد عالمی ثقافتوں سے اس کی واقفیت کے بعد انہیں یہ خیال پریشان کرتا کہ مراکش نے چاکلیٹ کو مقامی سطح پر تیار کرنے کے بجائے درآمد کرنے کا سہارا کیوں لیا” اور یہیں سے ان کے سفر کی شروعات ہوتی ہیں۔

مقامی پیداوار کا خزانہ

اس کے بعد، صلاح الدین نے پروڈکشن چینز حاصل کرکے چاکلیٹ سے متعلق ہر چیز تیار کرنے کے لیے ایک مربوط پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وہ 100 مقامی لیبارٹریاں قائم کرنے میں کامیاب ہوئے، اور تمام مٹھائیاں اور چاکلیٹ کی مصنوعات کو دستی طور پر اور بغیر کسی پرزرویٹیو یا کیمیکل ایڈیٹیو کے تیار کرنے کے قابل بنایا۔”

لیبارٹری کا مقصد مراکش کی مقامی مصنوعات کو استعمال کرنا بھی ہے جیسے کہ “بودنیب” کھجوریں، جنہیں اصل مراکش کی کھجور کے طور پہ جانا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ تاونات اور وازان انجیر، اور زعفران تالوین جیسے مقامی ذائقوں کو بھی صلاح الدین مقامی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ چاکلیٹ میں خالص مراکش کے ذائقوں کو شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مراکش کی مصنوعات کی بین الاقوامی سطح پر قدر ہو۔

چاکلیٹ کے ساتھ سیکھنا

مراکش میں اپنی نوعیت کی پہلی تجربہ گاہ میں، صرف چاکلیٹ تیار ہی نہیں ہوتی بلکہ تفریحی اور معلوماتی پروگرام بھی منعقد ہوتے ہیں، خاص طور پر بچوں کے لیے۔

ہفتے کے آخر میں ایک شام بچوں کے لیے وقف ہوتی ہے۔ بچے چاکلیٹ کی تیاری کے مراحل دیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے چھوتے ہیں اور اس کا مزہ چکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *