April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

برطانیہ کے نائب وزیر اعظم نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے تحفظ کا پورا حق ہے۔ تاہم اب غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔ اولیور ڈاؤڈن نے ان خیالات کا آطہار منگل کے روز اس ماحول میں کیا ہے جب مشرق وسطیٰ کے ملک اور اس کے سب سے بڑے حامی کے درمیان خفگی بڑھ رہی ہے۔

نائب وزیر اعظم نے کہا ‘ برطانوی حکومت تسلسل سے یہ بات کر رہی ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی پابند کرنی چاہیے۔ اسی طرح برطانیہ نے ہمیشہ غزہ میں انساسی بنیادوں پر امداد کی ترسیل کے حالات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ کیونکہ چھ ماہ کی مسلسل جنگ کے نتیجے میں وہاں ایک خوراک کے بحران کی سی صورت حال ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ اب فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔

ہم اسی طرح اسرائیلی یرغمالیوں کی فوری رہائی بھی چاہتے ہیں۔ وہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘ رائٹرز’ کو ایک انٹرویو کو دیتے رہے تھے۔ جہاں وہ جمہوریت کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔

نائب وزیر اعظم برطانیہ سے پوچھا گیا تھا کہ اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کے درمیان غزہ جنگ کے بارے میں کچھ ٹھن سی گئی ہے کہ نیتن یاہو جنگ کو درست رخ پر آگے نہیں لے جارہے، خصوصاً رفح میں اسرائیل کے زمینی جنگی منصوبے کے بارے میں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے منگل کے روز کہا ‘جس طرح اسرائیل نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد اور خوراک میں رکاوٹیں پیدا کرکے بھوک اور قحط کا ماحول پیدا کر رکھا ہے یہ جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر اسی طرح جنگ جاری رکھی گئی تو مئی میں خطر ناک قحط ہو گا۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے پیر کے روز نیتن یاہو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ رفح پر اسرائیلی حملے کی صورت میں غزہ میں افراتفری بڑھ جائے گی، اس لیے دونوں ملکوں کی ٹیموں کو باہم مل کر رفح پر حملے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کرنا چاہیے۔

اس سے پہلے امریکی سینیٹ میں اکثریت رکھنے والے رکن اور یہودی رہنما چک شومر نے جمعرات کے روز نیتن یاہو کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے مستقبل کے لیے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ یاہو نے اتوار کے روز چک شومر کا جواب دیتے ہوئے کہا ‘ شومر کی تقریر مکمل طور پر غیر مناسب تھی۔’

تاہم برطانیہ کے نائب وزیر اعظم نے اسرائیل کے لیے حممایت پر زور دیا اور کہا اس امر کا خطرہ ہے کہ دنیا سات اکتوبر کے حماس کے حملے کو بھول جائے گی۔ جس میں تقریباً 1400 اسرائیلی مارے گئے تھے۔ اس لیے میں اسرائیل کےحق دفاع کی حمایت جاری رکھتا ہوں۔ یہ حمایت صرف اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ سمجھتا ہوں کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں یہ وحشت نہیں ہونی چاہیے۔ ا نہوں نے مزید کہا ‘ مگر اس حمایت کے بدلے میں اسرائیل کو چاہیے کہ وہ بھی تحمل دکھائے ۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *