April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Thousands of armed police and paramilitary forces were deployed, and new checkpoints set up across Kashmir’s main city Srinagar, in time for Indian Prime Minister Narendra Modi’s arrival on Thursday. (AP)

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنانے کے لیے اپنے آئین کا آرٹیکل 370 ختم کرنا پڑا تھا۔ آج پہلی بار سری نگر میں ایک انتہائی حفاظتی ماحول میں جلسہ سے خطاب کی کوشش کر رہے ہیں۔ جلسے کی کشمیریوں سے حفاظت کے لیے فوجی، نیم فوجی اور پولیس کے دستے تعینات کیے گئے ہیں اور جلسہ گاہ کے اردگرد کئی ‘سیکیورٹی لیئرز’ بنائی گئی ہیں۔

ریاست جموں و کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کے دعوے اور فیصلے کے باوجود نریندر مودی کو سری نگر کی اس زمیں پر پاؤں دھرنے کے لیے تقریباً چار سال انتظار کرنا پڑا ہے۔ چار سال قبل آرٹیکل 370 ختم کرنے سے پہلے ہی غیر معمولی حفاظتی انتظامات کے تحت سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری بڑھانے کے ساتھ ساتھ ریاست جموں و کشمیر کی مواصلاتی ناکہ بندی کا اہتمام کر کے انٹرنیٹ ، فیس بک سب بند کر دیا گیا تھا۔ ہزاروں سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کی گئی تھی۔ جو اب بھی نظر بند یا گرفتار ہیں۔ تاہم نریندر مودی آج جمعرات کے روز انتہائی سیکیورٹی کے ماحول میں جلسے میں شرکت کے لیے لائے گئے لوگوں سے خطاب کریں گے۔

تاہم اپنے اس مقبولیت کے تاثر کو قائم کرنے کے لیے آج کشمیر میں سری نگر کے رہائیشیوں اور کشمیریوں کے ساتھ سیکورٹی اہلکار کیا کرتے ہیں ، اس کا اندازہ نہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ہزاروں مسلح پولیس اہلکار ، نیم فوجی دستی اور فوجی اس مقصد کے لیے سری نگر میں تعینات کیے گئے ہیں۔ جگہ جگہ پولیس و فوجی چوکیاں بنائی گئی ہیں۔ تاکہ نریندر مودی کو تقریر کا موقع مل سکے۔

واضح رہے بھارت میں ماہ مئی میں لوک سبھا کے انتخابات متوقع ہیں۔ جس کے لیے نریندر مودی آج کل انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ اس لیے ریاست جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ان کا جلسہ ان کے لیے ایک بڑے سیاسی جوے کے مترادف ہے۔ جہاں وہ کئی سال سے کشمیری اکثریت کو تبدیل کرنے کے لیے کوشش شروع کیے ہوئے ہیں اور کشمیر میں بنیادی حقوق پر قدغنیں لگائے ہوئے ہیں۔ ان کے آنے سے پہلے ہی سری نگر کی گلیوں اور بازاروں میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی گشت مسلسل جاری ہے تاکہ کسی کشمیری کو مودی کے جلسے سے ہٹ کر سوچنے یا حرکت کرنے کی اجازت نہ دے سکے۔

سری نگر کی ڈل جھیل میں موجود کشتیوں اور برقی کشتیوں کو بھی فوجی اہلکاروں و خفیہ اہلکاروں نے کمین گاہیں بنا رکھا ہے۔ نریندر مودی کی آمد پر شہر کے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ تاکہ کشمیری نوجوان سڑکوں پر نظر نہ آئیں۔ سرکاری ملازمین کو غیر رسمی طور پر حکم دیا گیا ہے کہ وہ نریندر مودی کے جلسے میں پہنچیں اور وہیں اپنی حاضری لگوائیں۔

سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے اس انداز کے سیاسی و جمہوری جلسے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ منظم طریقے سے لوگوں کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے اور جلسے کو کرائے کے لوگوں اور سرکاری ملازمین سے بھرنے کی کوشش ہے۔ تقریباً کوئی بھی شخص ایسا نظر نہیں آسکے گا جو اپنی خوشی سے آیا ہو۔

خیال رہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں نریندر مودی سرکار نے آزادانہ سیاست، اظہار رائے، حق اجتماع سمیت ہر اس سیاسی حق کو تالے میں ڈال رکھا ہے جس سے کشمیری عوام کے جذبات کی نمائندگی ہو سکتی ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *