April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
سلاح نووي روسي على القمر

ماسکو پر خلا میں مغربی سیٹیلائٹس کو تبا کرنے کی صلاحیت کے حامل جوہری ہتھیار نصب کرنے کے امریکی الزامات کے فوراً بعد روس نے اس معاملے کے بارے میں کچھ نئے انکشافات کیے ہیں۔

چین کے ساتھ پراجیکٹ

روس کے سابق نائب وزیر دفاع یوری بوریسوف نے چاند پر نیوکلیئر پاور سٹیشن قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ان کا ملک چین کے تعاون سے وہاں 2033 اور 2035 کے درمیان ایک مکمل سٹیشن قائم کرنا چاہتا ہے۔

لندن کے اخبار ’ٹائمز‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا ہدف وہاں مستقبل میں انسانی بستیوں کے لیے توانائی فراہم کرنا ہے۔

یہ اعلان ماسکو پرمغربی سیٹلائٹ نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ خلاء پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کے امریکی الزامات کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی رپورٹس میں حکام کے حوالے سے تصدیق کی گئی ہے کہ یہ ہتھیار سیٹلائٹ کمیونیکیشنز، گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس)، خلائی نگرانی کے مراکز اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بئائے گئے فوجی کمانڈ آپریشنز کو تباہ کر سکتا ہے۔Play Video

تاہم کریملن نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

چاند پر نیوکلیئر پاور سسٹم

یہ بات قابل ذکر ہے کہ آذربائیجان، بیلاروس، پاکستان، جنوبی افریقہ اور وینزویلا نے گذشتہ سال اس منصوبے میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

اسے وسیع پیمانے پرشروع کیے گئے امریکی زیر قیادت آرٹیمس پروگرام کے مدمقابل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کا مقصد چاند پر مریخ کے مشن کے لیے تحقیق، ترقی اور ٹیکنالوجی کی جانچ کے لیے ایک پائیدار انسانی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی خلائی ایجنسی “ناسا” کا منصوبہ چاند کی سطح پر جوہری توانائی کے نظام کے قیام کے امکانات بھی تلاش کر رہا ہے، تاکہ اس کے منصوبہ بند اڈوں کے لیے توانائی فراہم کی جا سکے۔

اگرچہ سابق سوویت یونین دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے مصنوعی سیارہ زمین کے مدار میں اور انسان کو خلا میں بھیجا لیکن جدید روسی خلائی پروگرام میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *