April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
US Vice President Kamala Harris speaks during an event to mark the 'Bloody Sunday' anniversary, in Selma, Alabama, US, March 3, 2024. (Reuters)

امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر چھ ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند ہو جائے جبکہ اسرائیل پر زور دیا ہے کہ غزہ میں امداد کی ترسیل کو بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو الاباما میں امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں بے گناہ لوگ ’انسانی تباہی‘ کا شکار ہیں۔

غزہ کے معاملے پر امریکی حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار کی جانب سے آج تک یہ سخت ترین بیانات میں سے ایک ہے۔ کملا ہیرس نے اسرائیلی حکومت پر غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے دباؤ ڈالا جہاں لاکھوں لوگوں کو قحط کا سامنا ہے۔

کملا ہیریس نے کہا کہ ’غزہ میں بے پناہ مصائب کے پیش نظر وہاں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’حماس کو اس معاہدے پر رضامند ہونے کی ضرورت ہے۔ آئیے جنگ بندی کریں۔‘

امریکہ کی حکومت اس وقت مصر اور قطر کے ساتھ مل کر حماس کے زیرِ حراست یرغمالوں کی واپسی اور غزہ میں امداد کے حصول کے لیے لڑائی میں چھ ہفتوں کے وقفے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ خبر دار کرچکی ہے کہ غزہ کے محصور علاقے میں قحط پڑ رہا ہے۔

اتوار کو حماس کا ایک وفد جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچا تھا جس کو بہت سے لوگوں نے جنگ بندی کے لیے ممکنہ رکاوٹ قرار دیا تھا، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے خبر دی ہے کہ حماس کی جانب سے زندہ بچ جانے والے یرغمالیوں کی مکمل فہرست فراہم کرنے کے مطالبے کو مسترد کرنے کے بعد اسرائیل نے مذاکرات کا بائیکاٹ کیا ہے۔

واشنگٹن نے اصرار کیا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ قریب ہے اور رمضان کے آغاز تک نافذالعمل ہونے پر زور دے رہا ہے۔ سنیچر کو ایک امریکی اہلکار نے کہا تھا کہ اسرائیل معاہدہ کرنے پر رضامند ہوا ہے۔

بات چیت کے بارے میں بریفنگ دینے والے ایک ذریعے نے سنیچر کو کہا تھا کہ اسرائیل اس وقت تک قاہرہ مذاکرات میں شامل نہیں ہو سکتا جب تک حماس پہلے ایسے یرغمالیوں کی مکمل فہرست پیش نہ کرے جو اب تک تک زندہ ہیں۔ ایک فلسطینی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ حماس اس مطالبے کو مسترد کر چکی ہے۔

حماس کے وفد کے پہنچنے کے بعد ایک فلسطینی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ معاہدہ ’ابھی تک نہیں ہوا۔‘ اسرائیل کی طرف سے بھی کوئی باقاعدہ بیانا سامنے نہیں آیا۔

ماضی کے مذاکرات میں حماس نے رہائی کی شرائط طے ہونے تک یرغمالیوں کی خیریت پر بات کرنے سے گریز کیا ہے۔

اسرائیلی جنگی کابینہ کے رکن بینی گانٹز پیر کو وائٹ ہاؤس میں کملا ہیریس اور منگل کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقات کریں گے۔ امریکی ایلچی اموس ہوچسٹین پیر کو بیروت کا دورہ کریں گے تاکہ لبنان اسرائیل سرحد پر جاری تنازع کو کم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *