April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
FILE PHOTO: Protestors rally for a cease fire in Gaza outside a UAW union hall during a visit by U.S. President Joe Biden in Warren, Michigan, U.S. February 1, 2024. REUTERS/Rebecca Cook/File Photo

امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ریاست مشی گن کے ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن پرائمری مقابلے جیت لیے ہیں جس سے اس بات کا امکان مزید بڑھ گیا ہے کہ اس سال نومبر کے صدارتی انتخاب میں دونوں ایک بار پھر مدِمقابل ہوں گے۔

بائیڈن نے منی سوٹا کے نمائندے ڈین فلپس کو شکست دی جو ڈیمو کریٹک پرائمری میں ان کے ایک اہم حریف رہ گئے تھے۔

ٹرمپ کو ری پبلکن پرائمری مقابلوں میں سبقت کے باوجود ایسے ووٹرز کی مزاحمت کا سامنا ہے جو اُن کی واحد حریف نکی ہیلی کی حمایت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب غزہ جنگ سے متعلق پالیسیوں کی وجہ سے مشی گن میں صدر بائیڈن کو ایسے ‘غیر وابستہ’ ووٹرز کا سامنا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں اُن کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق مشن گن میں ایسے ‘ان کمٹڈ’ ووٹرز کی تعداد 10 ہزار ہے۔

مشی گن کے بیلٹ پیپر پر ووٹر درج امیدواروں میں سے کسی ایک کو ووٹ دے سکتے ہیں یا ‘ان کمٹڈ’ آپشن کو پُر کر سکتے ہیں۔

‘ان کمیٹڈ’ سے مراد یہ ہے کہ ووٹر پارٹی ووٹ کا استعمال تو کر رہا ہے لیکن کسی اُمیدوار کو ووٹ نہیں دے رہا۔

بائیڈن نے پیر کو مشی گن کے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ “پانچ ریاستوں میں سے ایک” ہو گی جو نومبر کے صدارتی انتخابات میں فاتح کا تعین کرے گی۔

خیال رہے کہ ٹرمپ نے 2016 کے الیکشن میں مشی گن میں 10 ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ مشی گن سے قبل ٹرمپ نارتھ کیرولائنا، آئیوا، نیو ہیمپشر اور یو ایس ورجن آئی لینڈز سے پرائمری انتخابات جیت چکے ہیں۔

اب ٹرمپ مہم کا ہدف مارچ کے وسط میں کسی وقت ری پبلکن نامزدگی کو محفوظ بنانے کے لیے درکار 1,215 مندوبین کی حمایت حاصل کرنا ہے۔

ریاست مشی گن کی اہمیت

ریاست مشی گن میں امریکہ میں آباد عربوں کی سب سے زیادہ تعداد رہائش پذیر ہے۔ تین لاکھ دس ہزار سے زیادہ باشندے مشرق وسطیٰ یا شمالی افریقی پس منظر کے حامل ہیں۔ ریاست مشی گن کے شہر ڈیئربورن کے تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار رہائشیوں میں سے تقریباً نصف عرب حسب نسب سے تعلق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

حماس کے سات اکتوبر کے مہلک حملے اور 200 سے زیادہ یرغمالوں کے اغوا کے بعد یہ شہر اسرائیل-حماس جنگ میں امریکی پالیسیوں سے جمہوری انداز میں عدم اطمینان کے اظہار کا مرکز بن گیا ہے۔

اسرائیل نے جواب میں غزہ کے بیشتر علاقوں پر بمباری کی ہے جس میں فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔

ڈیئربورن سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ انجینئر شہیر عبدالرب کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا ہے کیوں کہ ان کے خیال میں عرب امریکیوں کو ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ری پبلکنز کے ساتھ زیادہ قربت محسوس ہوتی ہے۔

عبدالرب کا کہنا تھا کہ انہوں نے چار سال قبل بائیڈن کو ووٹ دیا تھا لیکن ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں جیت جائیں گے جس کی وجہ جزوی طور پر عرب امریکیوں کی حمایت ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ “میں ٹرمپ کو اس لیے ووٹ نہیں دے رہا کہ میں ٹرمپ کو صدر دیکھنا چاہتا ہوں، بلکہ اس لیے کہ مجھے بائیڈن نہیں چاہیے۔ بائیڈن نے غزہ میں جنگ روکنے کا مطالبہ نہیں کیا۔”

ریاست کیلی فورنیا سے ڈیمو کریٹک رکن کانگریس رو کھنہ امریکی صدر جو بائیڈن کے حامی ہیں۔ انہوں نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں ریاست مشی گن میں کئی اجلاس منعقد کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہو ں نے مقامی کمیونٹی کو بتایا ہے کہ غزہ جنگ پر ان کے اختلاف کے باوجود وہ بائیڈن کی حمایت کرتے ہیں کیوں کہ وہ مشرقِ وسطی میں قیام امن کے لیے ٹرمپ کے مقابلے میں بہتر امکانات پیش کرتے ہیں۔

رو کھنہ نے کہا کہ “میں نے کمیونٹی کے لوگوں کو یہ بھی بتایا کہ میں ان لوگوں کی تعریف کرتا ہوں جو اپنے ووٹ کے ذریعے امریکی پالیسی میں تبدیلی لانے کا امریکی طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔” لیکن رو کھنہ کے مطابق بائیڈن کے حامیوں کو غیر وابستہ کے آپشن کو استعمال کرنے والے ووٹرز کو قائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ریاست آئیووا، نیو ہیمپشر اور ساؤتھ کیرولائنا میں ری پبلکن ووٹروں کے ایک حالیہ سروے اے پی ووٹ کاسٹ کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ٹرمپ کے بنیادی ووٹرز زیادہ تر سفید فام ہیں۔ ان کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے اور اکثر کے پاس کالج کی تعلیم نہیں ہے۔ اس لیے ٹرمپ کو نومبر کے انتخابات میں ووٹرز کے زیادہ متنوع گروپ کو ووٹ دینے کے لیے راضی کرنا ہو گا۔

سن 2022 کے وسط مدتی انتخاب میں ٹرمپ کے زیادہ تر نامزد امیدواروں نے شکست کا سامنا کیا تھا جس سے واضح ہوا تھا کہ اس ریاست میں ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچا ہے۔ دوسرے ریاست مشی گن میں ری پبلکن ووٹ ٹرمپ کے حامی گروہوں میں بھی تقسیم کا شکار ہے۔

ٹرمپ کے مد مقابل نکی ہیلی اب بھی پر عزم ہیں کہ وہ ری پبلکن صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی مہم کو کم از کم پانچ مارچ کو سپر ٹیوز ڈے تک جاری رکھیں گی، جب 15 امریکی ریاستوں اور ایک علاقے میں ری پبلکن نامزدگی کے لیے پرائمری انتخابات ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *