April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
نیٹ

امریکی صدر جو بائیڈن کی سربراہی میں امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ عراق اور شام میں ایران اور اس کی ملیشیاؤں کو روکنے میں کامیاب رہی ہے۔ امریکی حکومت کے ایک سے زیادہ ذرائع نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں موجودہ ایرانی خطرات کے بارے میں بات کی ہے۔

انہوں نے العربیہ اور الحدث چینلوں کو بتایا کہ ان دنوں حقیقت میں یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ایران کے حوالے سے بائیڈن کی پالیسی اپنے مقصد تک پہنچ چکی ہے۔

بائیڈن کے مقاصد

امریکی انتظامیہ اپنا مقصد مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے دائرے کو نہ پھیلانے اور تنازعہ کو غزہ تک محدود رکھنا بیان کرتی ہے۔ یہاں امریکی ترجمان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بائیڈن اور ان کے معاونین نے اپنی سفارتی اور میدانی سرگرمیوں کے ذریعے سب سے پہلے ایران کو روکنے میں کامیابی حاصل کی اور غزہ کے تنازعے کو پھیلنےسے روکا۔

ایران نے فوج کو زمین پر منتقل نہیں کیا اور نہ ہی اس نے اپنی سرزمین سے کسی بھی قسم کی براہ راست فوجی کارروائی کرنے کے لیے اپنی فوجیں بھیجی ہیں۔ جب کہ ایران عراقیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب میں مشیروں اور سپاہیوں کو بھیجتا رہا۔ ایران کی وفادار ملیشیا اور شامی حکومت کی افواج اور اس کی بنائی ہوئی ملیشیاؤں کے ساتھ۔ ایران شام تک اپنا اثر و رسوخ بڑھاتا ہے۔

امریکی دھمکیاں

امریکی حکومت کے ایک ذریعے نے ’العربیہ‘ اور الحدث کو بتایا کہ گذشتہ ماہ کے دوران عراقی ملیشیا کے حملے عراق اور شام میں تعینات امریکیوں کے لیے حقیقی خطرہ تھے۔ اس میں “ٹاور 22” بیس پر تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت تھی کا واقعہ اہمیت کا حامل تھا اور یہ اردن کی سرخ لکیروں کی صریح خلاف ورزی تھی۔

امریکی ردعمل کثیر جہتی تھا اور اس کا آغاز شام اور عراق میں ملیشیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹرز پر فضائی بمباری سے ہو۔ اس کے بعد امریکیوں نے کتائب حزب اللہ ملیشیا کے ایک رہ نما کو ہلاک کر دیا جو شام اور عراق میں میزائل حملوں کا ذمہ دار تھا۔

ایران پر بمباری کی دھمکی

سد جارحیت کا تیسرا پہلو جوزف بائیڈن کا ایرانی حکومت کو براہ راست اور بالواسطہ پیغامات بھیجنا تھا کہ اگر ایران نے تنازعات کے دائرے کو بڑھانے کا فیصلہ کیا اور امریکی فوجیوں کو دھمکی دی تو وہ ایرانی سرزمین کے ادنر گھس کر اہداف پر بمباری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بائیڈن کا ایرانی سرزمین پر بمباری کا پیغام تہران کے لیے واضح تھا اور اب واشنگٹن میں امریکی ذرائع نے العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے واقعی اس پیغام کو سمجھ لیا ہے۔ اب ہم ملیشیا کی خاموشی اور ایران کی ناکامی دیکھ رہے ہیں۔

ایران یورینیم افزودگی کو کم کر رہا ہے؟

امریکیوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا بائیڈن کی ایران پر حملہ کرنے کی دھمکیوں نے جوہری کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی ہے۔

رواں ماہ کی 26 تاریخ بہ روز سوموار ایک سے زیادہ ممالک نے ایران سے متعلق ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر کی رپورٹ کو لیک کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ایران نے جان بوجھ کر اپنی افزودہ یورینیم کی مقدار میں کمی کی ہے۔

رافیل گروسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی مقدار “فوجی گریڈ” کے قریب منتقل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ یعنی ایران اسے 60 فیصد سے زیادہ تک لے جانا چاہتا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سال 2021ء کے بعد “خطرناک” مقدار میں کمی ہوئی ہے اور رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ایرانی اقدام چند ہفتوں کے اندر اندر آیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایک غیر مصدقہ نتیجہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی سست کر دی اور اس کی مقدار میں 60 فیصد کمی کر دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *