April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Indian police walking in front of closed Masjid

بھارت میں بھاتیہ کنتا پارٹی کے مسلسل 2014 سے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے بھارت کی شناخت جہاں سیکولر کے بجائے عملی طور پر انتہا پسندانہ ہندوتوا کا چرچا بڑھا ہے اور اقلیتوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا رہا ہے وہیں بھارت کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو بد ترین نفرت کا شکار بننا پڑ رہا ہے۔

امریکہ میں قائم ایک ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سال 2023 کے دوران بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی واقعات میں 62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2023 کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں دوسری ششماہی میں ان نفرتی واقعات میں بھی اضافہ ہوا پے۔

رپورٹ کے مطابق سال کی پہلی ششماہی کے دوران 255 ایسے واقعات ریکارڈ پر آئے ۔ جبکہ سال کی دوسری ششماہی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی پر پیش آنے والے واقعات کی تعداد 413 رہی۔

رپورٹ کے مطابق ان بڑھے ہوئے مسلم دشمنی کے واقعات کی ایک بڑی وجہ غزہ میں اسرائیلی جنگ بھی بنی رہی۔ تاہم رپورٹ میں بھارت کے عمومی روایت انتخابی عمل کے قریب آنے کی وجہ سے بھی اقلیتوں کے خلاف واقعات میں خود ہی اضافہ ہو جاتا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کا شروع سے یہ یقین ہے کہ اقلیتوں کو سیاسی، سماجی، قانونی اور غیر قانونی ہر طرح کے اقدامات سے تنگ کرنے سے ہندو ووٹ زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ یہ روایت ماضی میں بھی رہی ہے۔ مگر 2014 میں جب سے نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں ان واقعات میں فطری طور پر اضافہ ہے اور ہر الیکشن ہو رہا ہے۔ کیونکہ ان کا ووٹ بنک ہی انتہا پسند ہندو اکثریت پر مبنی ہے۔

امریکی ادارے ‘ہیٹ لیب’ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے واقعات سے ان ریاستوں میں ہوئے ہیں جہاں ‘ بی جے پی ‘ کی حکومتیں ہیں۔ ان ریاستوں میں مسلم دمشمنی کے واقعات 668 میں سے 498 پیش آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان ریاستوں میں ‘ مہاراشٹرا، اتر پردیش، مدھیہ پردیش سب سے اہم رہیں۔

مبصرین کے مطابق مسلمانوں کے خلاف ان کی ذاتی اور گھریلومعاملات سے متعلق قوانین کی تبدیلی تک کو اپنے سیاسیایجنڈے کی مقبولیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ دو روز قبل ہی بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں کے فیملی لاز کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے مسلمانوں کی شہریت پر سوال اٹھائے گئے۔ مسلمانوں کے گائے ذبح کرنے پر عملاً پورے بھارت میں پابندی ہے۔ اگر کہیں گائے کے ذبح کیے جانے کی اطلاع آتی ہے تو ہندو انتہا پسندوں کے بلوے شروع ہو جاتے ہیں۔ ان کی مساجد اور مدرسے بھی نشانے پر ہیں۔

امریکی ادارے کا اندازہ ہے کہ 2014 سے بر سر اقتدار مودی بڑی آسانی سے 2024 میں بھی الیکشن جیت سکتے ہین کیونکہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت سے ان کا ووٹ بنک مزید بڑھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *