April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
US National Security Advisor Jake Sullivan attends a session during the 54th annual meeting of the World Economic Forum in Davos, Switzerland, Jan. 16, 2024. (Reuters)

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے لیے جاری کثیر ملکی مذاکرات میں ایک ممکنہ معاہدےکے لیے افہام و تفہیم پیدا ہوئی ہے۔ ان مذاکرات میں امریکی سی آئی اے چیف ولیم برنز پہلے کی طرح ایک بار پھر شریک ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے سہولت کاری کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا بھی پیرس میں ہونےوالے اس مذاکرات کا حصہ ہیں۔ اواخر جنوری سے اب تک یہ دوسرا موقع ہے ان مذکورہ بالا دونوں ملکوں کے خفیہ اداروں کے سربراہان قطر اور مصر کے حکام کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوئے ہیں۔

قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی اور مصری انٹیلی جنس چیف عباس کامل ان پیرس مذاکرات کو ودسرے مہینے میں دوسری بارحصہ بنے ہیں۔ اب مذاکرات کا اگلا دور قطری دارالحکومت دوحہ میں اگلے چند روز میں متوقع ہے۔ مذاکرات کے بنیادی نکات میں یرغمالیوں کی رہائی، غزہ میں جنگ بندی اور غزہ کے بے گھر لاکھوں فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل کو آسان ، تیز اور موثر بنانا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے لیے مشیر جیک سلیوان نے ان مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پچھلے مذاکراتی ادوار کے مقابلے میں امید افزائی کی ہے۔ ان کے بقول ‘ پیرس مذاکرات میں شامل چاروں ملکوں کے درمیان ایک افہام و تفہیم پیدا ہو گئی ہے کہ کس طرح یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنایا ہے اور کیسے عارضی جنگ بندی ہو گی۔’

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی ان امور کی تفصیلات پر بات جاری ہے۔ اس بارے میں حماس کے ساتھ ایک بالواسطہ مذاکرات کا موقع بھی ہو گا، جس میں قطر اور مصری حکام حماس کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے اس کے ساتھ اب تک کی پیش رفت پر بات کریں اور آنے والے دنوں کے لیے عملی خطوط کی نشاندہی کریں گے۔ کیونکہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کا اتفاق کرنا ضروری ہے۔’

جیک سلیوان نے کہا ‘ اس سلسلے میں کام جاری ہے۔ امید ہے چند دنوں ہم اس سطح پر پہنچ جائیں گے جس کے نتیجے میں اسرئیل حماس کے ایشو پر حتمی معاہدہ طے پاجائے گا۔’

اس سے پہلے مصری ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ‘ پیرس میں مذاکرات کے دور کے بعد اگلا مذاکراتی دور قطر میں ہونے جارہا ہے۔ اس کی اطلاع حماس ذرائع سے بھی ملی ہے۔

یاد رہے اسرائیل حماس جنگ میں آخری جنگی وقفہ ماہ نومبر میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر محیط رہا اور مجموعی طور پر ایک ہفتہ تک جنگ بندی رہی تھی۔ اس وقفے میں اسرائیل کے تقریباً 140 یرغمالی رہا ہوئے۔ مگر یکم دسمبر سے دوبارہ جنگ شروع کر دی گئی اور یرغمالیوں کی رہائی کا سلسلہ رک گیا۔

ایک دعوے کے مطابق اسرائیل کے 130 کے لگ بھگ یرغمالی حماس اور دوسری فلسطینی گروپوں کی قید میں اب بھی موجود ہیں۔ جن کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ اطلاعات درست ہیں یا نہیں جن میں کہا گیا ہے کہ تقریباً تیس یرغمالی اسرائیلی بمباری کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی بمباری کے ذریعے اب تک 30000 کے قریب فلسطینی صرف غزہ میں قتل کیے جا چکے ہیں جبکہ سات اکتوبر کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہیں۔ اس ممکنہ جنگی وقفے میں امکان ہے کہ فلسطینیوں کے اس قتل عام کو روک لگے گی اور ان کے لیے امدادی اشیا کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *