April 23, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Farmers shout slogans as dust blows on a windy day as they march towards New Delhi to press for better crop prices promised to them in 2021, at Shambhu Barrier, a border crossing between Punjab and Haryana states, India, February 19, 2024. (Reuters)

بھارتی کسان جو فصلوں کی یقینی قیمتوں کے مطالبے کے لیے ایک ہفتے سے احتجاج کر رہے ہیں، انہوں نے حکومت کی طرف سے ایک تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ دارالحکومت نئی دہلی تک اپنا مارچ جاری رکھیں گے۔

احتجاج کرنے والے کسانوں نے گذشتہ ہفتے اپنا مارچ شروع کیا تھا لیکن ان کی شہر تک پہنچنے کی کوششوں کو حکام نے روک دیا ہے۔ انہوں نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور دارالحکومت میں داخلی راستوں پر بھاری رکاوٹیں لگا دیں تاکہ 2021 جیسا کسان احتجاج دہرایا نہ جا سکے جب انہوں نے ایک سال سے زائد عرصے تک کے لیے مضافات میں ڈیرے ڈال لیے تھے۔

پیر کی رات تادیر کاشتکار راہنماؤں نے کہا کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے دالوں، مکئی اور کپاس سمیت فصلوں کے سیٹ کے لیے ضمانت شدہ قیمتوں کے لیے پانچ سالہ معاہدے کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

احتجاج کی قیادت کرنے والے رہنماؤں میں سے ایک جگجیت سنگھ دلیوال نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اتوار کو دی گئی حکومت کی تجویز کسانوں کے مفاد میں نہیں تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسان – جن میں سے دسیوں ہزار لوگ حکومتی پیشکش کے انتظار میں دارالحکومت سے تقریباً 200 کلومیٹر (120 میل) کے فاصلے پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں – بدھ کو نئی دہلی کے لیے اپنا مارچ دوبارہ شروع کریں گے۔

دلیوال نے کہا، “ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ یا تو ہمارے مسائل حل کریں یا رکاوٹیں ہٹائیں اور ہمیں پرامن احتجاج کے لیے دہلی جانے کی اجازت دیں۔”

یہ مظاہرے دو سال پہلے کی ایک تحریک کی یاد دلاتے ہیں جس میں دسیوں ہزار کسان نئی دہلی کے کناروں پر ایک سال سے زائد عرصے تک زرعی قوانین کے خلاف بھوک ہڑتال کیے رہے جو آخرِکار حکومت کو منسوخ کرنے پڑے۔

اس بار ہمسایہ ریاست ہریانہ اور پنجاب سے ٹریکٹروں پر سوار ہو کر آنے والے کسانوں نے کہا ہے کہ حکومت سابقہ احتجاج کے دیگر اہم مطالبات پر پیش رفت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تازہ ترین مظاہروں کا مرکز ایسی قانون سازی کا مطالبہ ہے جو تمام زرعی پیداوار کے لیے کم از کم امدادی قیمتوں کی ضمانت دے۔

فی الحال حکومت کچھ ضروری فصلوں کے لیے کم از کم قیمتِ خرید مقرر کر کے زرعی کاشتکاروں کو فصل کی قیمتوں میں کسی بھی تیز اور اچانک کمی سے بچاتی ہے۔ یہ ایک نظام ہے جو 1960 کے عشرے میں خوراک کے ذخائر کو بڑھانے اور قلت کو روکنے میں مدد کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔

کسان کہتے ہیں کہ ان کی فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت کی ضمانت ان کی آمدنی کو مستحکم کرے گی۔ وہ حکومت پر یہ بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ان کی آمدنی کو دوگنا کرنے، ان کے قرضے معاف کرنے اور 2021 کے سابقہ احتجاج کے دوران ان کے خلاف لائے گئے قانونی مقدمات کو واپس لینے کے وعدوں پر عمل کرے۔

کسان رہنماؤں اور حکومت کے درمیان کئی ملاقاتیں جمود کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ کسانوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والے وزراء میں سے ایک پیوش گوئل نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ کسانوں کے کچھ مطالبات “گہرے اور پالیسی پر مبنی” تھے جس کی وجہ سے حل تلاش کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

یہ مظاہرے ہندوستان کے لیے ایک اہم وقت پر سامنے آئے ہیں جب آئندہ مہینوں میں قومی انتخابات متوقع ہیں اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی پارٹی کو مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی توقع ہے۔

مودی کی انتخابی بنیادوں کے لیے کسان خاص طور پر اہم ہیں۔ بڑی کسان آبادی پر مشتمل شمالی ہریانہ اور چند دیگر ریاستوں میں ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *