April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
The World Bank Group building is viewed on an empty street in Washington, DC on April 13, 2020, during the virtual IMF, World Bank Spring 2020 meetings. The IMF published Global Financial Stability Report, with virtual presser by Financial Counsellor Tobias Adrian.

ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو بورڈ نے جمعرات کو افغانیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے لیے ایک نئی پالیسی کی توثیق کی جس کے تحت طالبان حکام کے کنٹرول سے باہر تقریباً 300 ملین ڈالر کے نئے فنڈز دستیاب ہو سکتے ہیں۔

بینک نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس کی افغانستان کے ساتھ نئی پالیسی، جسے “اپروچ 3.0” کا نام دیا گیا ہے، انفراسٹرکچر کا ایک علاقائی منصوبہ بھی بحال کر دے گی جو اگست 2021 میں طالبان کے جنوبی ایشیائی ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد روک دیا گیا تھا۔

بینک کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس طریقہ کار کے تحت ورلڈ بینک کا دنیا کے غریب ترین ممالک کے لیے قرض دینے والا بازو جو انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کے نام سے معروف ہے، اگلے 15 ماہ کے دوران تقریباً 300 ملین ڈالر فراہم کرے گا جو بورڈ کی مزید منظوری سے مشروط ہے۔

تاہم بینک نے بورڈ کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں ورلڈ بینک کی دیگر فنڈنگ کی طرح نئی فنڈنگ “اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور دیگر عوامی بین الاقوامی تنظیموں کے لیے گرانٹس کے ذریعے” کی جائے گی۔

اس نے مزید کہا گیا، “یہ فنڈز ملک بھر میں بنیادی خدمات کی حمایت جاری رکھیں گے خاص طور پر خواتین کو فائدہ پہنچانے والی اور طالبان کی عبوری انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہوں گے۔”

اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے طالبان حکام نے اسلام کی ایک سخت تشریح نافذ کی ہے جس میں خواتین کو قوانین کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسے اقوام متحدہ نے “صنفی امتیاز” کا نام دیا ہے۔

اس کے جواب میں بہت سی حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں اور امدادی ایجنسیوں نے افغانستان کے لیے اپنی مالی امداد کو یا تو منقطع یا شدید طور پر کم کر دیا ہے – جس کے تباہ کن اقتصادی نتائج ہوئے ہیں۔

ورلڈ بینک کا اندازہ ہے کہ افغانستان کی معیشت 2021 میں 20 فیصد سے زیادہ اور 2022 میں چھ فیصد سے زیادہ سکڑ گئی ہے۔

عالمی غذائی پروگرام جو ملک کو خوراک کی 90 فیصد امداد فراہم کرتا ہے، نے حال ہی میں اے ایف پی کو بتایا کہ اسے توقع ہے کہ اس موسمِ سرما میں تقریباً 16 ملین افغانوں کو امداد کی ضرورت ہوگی جن میں سے 2.8 ملین خوراک کے عدم تحفظ کی ہنگامی سطح پر ہیں۔

ورلڈ بینک نے کہا کہ اپروچ 3.0 پر عمل درآمد جاری رہے گا جسے وہ طالبان حکام کے ساتھ معاملات کے لیے اپنا “اصولی نقطۂ نظر” کہتا ہے جو “خواتین کو منصوبوں کے مرکز میں رکھتا اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ منصوبوں کی سرگرمیاں خواتین کے ذریعے اور ان کے لیے نافذ کی جائیں۔”

جمعرات کو عالمی بینک نے 1.2 بلین ڈالر کے پائیدار توانائی کے منصوبے کو سی اے ایس اے-1000 کے نام سے دوبارہ شروع کرنے کی منظوری بھی دی جس میں افغانستان کے قریبی تین ممالک شامل ہیں: تاجکستان، کرغزستان اور پاکستان۔

بینک نے کہا، “دیگر تین شریک ممالک میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور ان ممالک نے درخواست کی ہے کہ افغانستان میں سی اے ایس اے-1000 سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جائیں تاکہ منصوبے کے خسارے کا شکار اثاثہ بننے کے خطرے سے بچا جا سکے۔”

اس نے مزید کہا کہ آئی ڈی اے فنڈنگ کی طرح اس منصوبے کو اس طرح سے انجام دیا جائے گا کہ اس میں طالبان حکومت کے نظام کو شامل نہ کیا جائے۔

اس معاملے سے باخبر ایک فرد کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ورلڈ بینک کا افغانستان میں 80 سے زائد عملہ تھا جو طالبان کے آنے کی وجہ سے وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *