April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

امریکہ نے حوثی حملوں کے بارے میں مسلسل ردعمل کا اعلان کرتے ہوئے یمن میں ایران نواز ملیشیا کی تنصیبات پر مزید حملےکیے ہیں۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب دوسری جانب سات اکتوبر سے پورا خطہ کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ اس کشیدگی کے دوران بحیرہ احمر میں حوثیوں کی طرف سے اسرائیلی، امریکی اور برطانوی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

4 اہداف پر حملے

امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ کل بدھ کے روز شام صنعاء کے وقت کےمطابق 7:30 بجے 4 حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں حوثی علاقوں میں تین ڈرون ایئر گاڑیاں (یو اے وی، ایک دھماکہ خیز میزائل اور ایک سپر ڈرون (یو ایس وی) کونشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے ’ایکس‘ کے توسط سے شائع ہونے والے ایک بیان میں مزید کہا کہ حملوں کا نشانہ بننے والے اہداف بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کے خلاف حملوں کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

سینٹرل کمانڈ نے موبائل میزائل ، ڈرون اور سمندری گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں تباہ کیے گئے آلات امریکی بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ خطے میں تجارتی جہازوں کے لیے ایک خطرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ اقدامات نیویگیشن کی آزادی کے تحفظ ، امریکی بحریہ اور جہازوں کے لیے بھی بین الاقوامی پانیوں میں تحفظ کی خاطر کیے گئے ہیں۔

یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا جب امریکی اور برطانوی افواج نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران یمن کے مغرب میں حدیدہ کے جنوب میں الجاح کے علاقے پر نئے حملے کیے۔

دریں اثنا ہوائی جہاز کیریئر کے کمانڈر مارک میگاس نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی افواج حوثیوں کی جارحانہ صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے علاوہ آبنائے عدن کے پار 2000 جہازوں کو عبور کرنے میں مدد کی۔

بین الاقوامی تناؤ

یہ قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد اس خطے میں عام طور پر تناؤ بڑھتا جارہا ہے۔ لبنان ، عراق ، شام اور یمن میں متعدد محاذ گرم ہو چکے ہیں جہاں ایران کے وفادار مسلح دھڑے اور ملیشیا خطے کے کئی امریکی اڈوں پر خاص طور پر عراق اور شام میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحر احمر میں غیر ملکی جہاز رانی والے جہازوں پر بھی درجنوں حملے کیے اور ان کے حملوں نے بھی امریکی جہازوں کو متاثر کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *