April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

بھارت کے اہم اپوزیشن رہنما کو بھارت کی انتہائی سکیورٹی کی حامل جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنما کی گرفتاری پچھلے ماہ کی گئی تھی۔ وہ 14 اپریل جیل میں ریمانڈ پر ہوں گے جبکہ لوک سبھا کے انتخابات کا پہلا مرحلہ 19 اپریل سے شروع ہو رہا ہے۔

یہ بات بھارت میں عمومی طور پر کہی جارہی ہے کہ اپوزیشن کے اہم ترین رہنما کو سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، تاکہ الیکشن سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کو دباؤ میں لاکر ان کا ووٹ بنک اور انتخابی مہم خراب کی جا سکے۔

واضح رہےگرفتار کئے گئے 55 سالہ اپوزیشن رہنما کجریوال دہلی کے وزیر اعلی بھی ہیں۔ گرفتاری کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں جیل کے اندر سے اپنی حکومت چلانے دی جائے۔ تاہم ان کی حکومت اگر اسی طرح چلتی رہی تو الیکشن سے پہلے اس گرفتاری کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔

کجریوال 21 مارچ کو گرفتار کئے گئے تھے۔ بھارت کی مالی جرائم سے متعلق مرکزی ادارے نے ان کی گرفتاری کی تھی۔ پیر کے روز انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر 14 دن کے لئے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ جہاں ان سے تفتیش جاری رہے گی۔

عام آدمی پارٹی کے قانونی امور کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ اگلے چودہ دن کے لئے مودی سرکار کی خواہش پر جیل بھیجے گئے ہیں۔

بھارت جہاں آجکل پارٹی فنڈنگ کا ایشو بہت اہم بنا ہوا ہے اور حکمران جماعت نشانے پر ہے کہ اس نے بڑے کاروباری اداروں سے اربوں روپے کی فنڈ گ کے لئے مبینہ طور پر ناجائز ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔

وہیں اچانک اپوزیشن لیڈر کجریوال کی گرفتاری بھی بڑی خبر بن گئی ہے۔ ان کی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے مختلف منصوبوں میں مختلف کمپنیوں سے ‘کک بیکس’ لئے ہیں۔ مودی کجریوال کو اپنے لئے خطرناک اپوزیشن رہنما سمجھتے ہیں۔

کجریوال ‘کک بیکس’ کے الزام کی تردید کرتے ہیں ۔دوسری جانب نریندر مودی چھ ہفتے کی میراتھان قسم کی انتخابی مہم پر ہیں جبکہ ان کا اہم ترین مخالف جیل میں بند کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے بھارت کے سات مرحلوں پر پھیلے لوک سبھا انتخابات میں پہلے مرحلے کا آغاز 19 اپریل کو ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *