May 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

مالدیپ کے صدر محمد معزو کی پارٹی کی رکن اور سابق وزیر مریم شیونا نے سوشل میڈیا پر اپنے پوسٹ کیلئے معذرت کا اظہار کیا جس میں مبینہ طور پر ہندوستانی پرچم میں موجود اشوک چکرکے مماثل علامت کا استعمال کیا گیا تھا۔

Photo: INN

تصویر: آئی این این

مالدیپ کی سابق وزیر مریم شیونا نےآج سوشل میڈیا پر ملک کی اپوزیشن کے خلاف اشوک چکر سے مشابہہ علامت استعمال کرنے پر معافی مانگی ہے، جو ہندوستانی پرچم کا حصہ ہے۔شیونا، جو مالدیپ کے صدر محمد معزو کی پارٹی کی رکن ہیں ، نے مالدیپ میں ۲۱؍ اپریل کو ہونے والےپارلیمانی انتخاب میں اپنی پارٹی پیپلز نیشنل کانگریس کو ووٹ دینے کی درخواست کے ساتھ حزب اختلاف مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی کے پوسٹر پر کمپاس کو تبدیل کرکے اشوکا چکر کا استعمال کیا تھا۔ 
  انہوں نے اپنی پوسٹ کو آن لائن ہندوستانیوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد کہاکہ ’’اس جانب میری توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ مالدیپ کی حزب اختلاف پارٹی (مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی) کے جواب میں جو تصویر استعمال کی گئی ہے وہ ہندوستانی پرچم سے مشابہت رکھتی ہے۔میں واضح کرنا چاہتی ہوںکہ یہ مکمل طور پر غیر ارادی تھا اور مجھے اس کی وجہ سے ہونے والی کسی بھی دل آزاری پر افسوس ہے۔‘‘سابق وزیر نے مزید کہا کہ مالدیپ ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات اور باہمی احترام کی گہری قدر کرتا ہے۔مستقبل میں اپنے اشتراک کردہ مواد کی تصدیق کرنے میں زیادہ چوکس رہوں گی۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا الیکشن: کیرالا میں سی اے اے اہم موضوع، اس مسئلہ پر کانگریس خاموش
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شیونا کسی سوشل میڈیا پوسٹ کیلئے  تنازعہ میں گھری ہیں ۔
جنوری میں ، شیونا ان تین وزراء میں شامل تھیں جنہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے لکش و دیپ کے دورے کے سلسلے میں اپنے سوشل میڈیا پوسٹس کیلئے معطل کیا گیا تھا۔
شیونا نے مودی کی تصویر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں مسخرہ قرار دیا تھا۔ انہوںنے ایک پوسٹ میں کہا تھا ’’اسرائیل کی کٹھ پتلی غوطہ خور مسٹر نریندر مودی لائف جیکٹ کے ساتھ۔‘‘ جسے بعد میںحذف کیا گیاتھا۔
ان تبصروں سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔وزیر اعظم کے متعدد حامیوں نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ مودی کے دورے سے لکش دیپ کو مالدیپ کے متبادل سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے میں مدد ملے گی جس سے مالے میں چین نواز حکومت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
محمد معزو ، جو نومبر میںمالدیپ کے صدر بنے تھے، کو چین حامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔سفارتی تنازعہ کے درمیان، معزو نے چین کا دورہ کیا تھا اور ۲۰؍معاہدوں پر دستخط بھی کئے تھے۔اس میں     ایک بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو پر تعاون کو تیز کرنا بھی شامل تھا۔
چین سے واپسی پرمحمد معزو نے کہا تھا کہ جبکہ مالدیپ چھوٹا ملک ہے۔ یہ کسی کو جزیرے کی قوم کو ’’دھمکانے‘‘کا اجازت نامہ نہیں دیتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق،۴؍ مارچ کو، چین نے مالدیپ کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جو جزیرے کی قوم کو مفت فوجی امداد فراہم کرے گا۔
یہ مالدیپ حکومت کےاس اعلان کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے کہ ہندوستان نے ۱۰؍مئی تک جزیرے والے ملک سے اپنے فوجی اہلکاروں کو واپس بلانے اور وہاں موجود اپنے ہوابازی کے انتظامی عملے کو عام شہریوں سے تبدیل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *