May 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Egyptian Foreign Minister Sameh Shoukry (not pictured) and British Foreign Secretary David Cameron hold a press conference, amid the ongoing conflict between Israel and Hamas, in Cairo, Egypt, December 21, 2023. (Reuters)

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون امریکی دورے پر منگل کو واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔ جہاں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ جنگ پر امریکی قیادت کے ساتھ بات چیت کے علاوہ یوکرین کی جنگی مشکلات اور تازہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

برطانوی وزارت خارجہ کے مطابق ڈیوڈ کیمرون اپنے دورہ امریکہ کے دوران ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ کی 7 رکنی ٹیم کی ہلاکت کی شفاف اور فوری تحقیقات کی ضرورت پر بھی زور دیں گے۔ اس 7 رکنی ٹیم کی ہلاکت اسرائیل نے تین یکے بعد دیگرے کیے گئے ڈرون حملوں سے یکم اپریل کو کی تھی۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے ابھی تک کوئی ایسا اقدام تو نہیں کیا کہ جس کے نتیجے میں غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی رفتار یا اہداف پر کوئی اثر پڑ سکے۔ تاہم اب برطانیہ میں عوامی سطح پر یہ دباؤ بڑھنے لگا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روک دی جائے۔

اس سلسلے میں برطانوی سپریم کورٹ کے تین سابق جج حضرات سمیت 600 قانون دانوں کی ایک اپیل بھی برطانیہ میں ایک غیرمعمولی واقعہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خود ڈیوڈ کیمرون نے بھی پہلے اپنے سخت بیان میں اسرائیل کو باور کرایا ہے کہ اسرائیل کے لیے حمایت و مدد غیرمشروط نہیں ہے۔ اس ساری تبدیلی کا اشارہ ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ کی سات رکنی ٹیم کی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کے بعد سامنے آنا شروع ہوا ہے۔

برطانوی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق ڈیوڈ کیمرون امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ تبادلہ خیال میں یوکرین اور اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کے امور پر بھی باہمی تبادلہ خیال کریں گے اور بعدازاں مشترکہ کانفرنس کا اہتمام ہوگا۔ تاہم ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے بارے میں پالیسی میں کسی بڑی عملی تبدیلی کا امکان کم ہوگا۔ البتہ سات رکنی ٹیم کی ہلاکتوں کے معاملے میں سخت تنبیہ ضرور ہو سکتی ہے۔

ڈیوڈ کمیرون اور بلنکن کے درمیان مستقل جنگ بندی اور غزہ میں انسانی بنیادوں پر خوراک اور امدادی سامان کی فراہمی پر بھی بات چیت ہوگی۔ نیز یوکرین کو 60 ارب ڈالر کی امداد دینے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اتوار کے روز اپنے اتحادیوں کو خبردار کیا تھا کہ ان کے ملک کے پاس روس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے جنگی وسائل موجود نہیں ہیں۔ اس لیے کانگریس نے امداد کی منظوری نہ دی تو روس کے خلاف یوکرین جنگ ہار جائے گا۔

اس سے پہلے یورپی ممالک یوکرین کو 184 ارب ڈالر کی امداد دے چکے ہیں۔ جس میں 15 ارب ڈالر کی رقم برطانیہ کی طرف سے دی گئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی کانگریس سے امریکی رہنما 60 ارب ڈالر کی مزید امداد یوکرین کے لیے مختص کیے جانے کا مطالبہ کریں گے۔ ری پبلکن ارکان کانگریس نے اس امدادی منظور کو کئی ماہ سے روک رکھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *