May 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
U.S. Secretary of Defense Lloyd Austin looks on as he attends the ASEAN Defense Ministers' Meeting Plus in Jakarta, Indonesia, November 16, 2023. REUTERS/Willy Kurniawan/Pool

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ امریکہ “میری ٹائم نیویگیشن کو ایران کے خطرات کو کم کرنے” پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ “ایران کے جوہری عزائم، اس کے خطرناک پراکسیز اور دہشت گردی کی حمایت علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہے”۔

غزہ جنگ کے بارے میں امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ “غزہ میں بڑے پیمانے پر قحط مشرق وسطی میں تشدد کی رفتار کو تیز کرے گا اور ایک طویل مدتی تنازعے کا باعث بنے گا”

گذشتہ سات اکتوبر کوغزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحیرہ احمر میں جاری کشیدگی کے تناظر میں حوثیوں کے مال بردار بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے فضائی دفاعی نظام اور ڈرون کو تباہ کر دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کی صبح ایک بیان میں یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں دو میزائلوں سے لیس ایک فضائی دفاعی نظام اور ایک زمینی کنٹرول اسٹیشن کی تباہی کا انکشاف کیا۔

امریکی چیف آف اسٹاف جنرل چارلس براؤن نے کہا کہ “ایران کی ہماری افواج پر حملوں کی حمایت اور شرکت سے علاقائی عدم استحکام بڑھے گا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ایران کی ملیشیاؤں نے 7 اکتوبر کے حملوں کو شام ،عراق اور بحیرہ احمر میں ہماری افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔”

قابل ذکرہے کہ گزشتہ 19 نومبر سے حوثیوں نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں تقریباً 73 بحری جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے بعد فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان حملوں نے کمپنیوں کو افریقہ کے گرد طویل اور مہنگے راستے پر جانے پر مجبور کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *