May 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/redpanal.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Palestinian employees of United Nations Relief and Works Agency (UNRWA) take part in a protest against job cuts by UNRWA, in Gaza City September 19, 2018. (Reuters)

امریکی قانون سازوں نے جمعرات کے روز ایک نیا قدم لیتے ہوئے کوشش شروع کر دی ہے کہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے قائم ادارے ‘ اونروا’ کو امریکہ آئندہ بھی فنڈز فراہم نہ کرے۔

اس فیصلے میں ‘ اونروا’ پر اسرائیل نے الزام لگاہے کہ اس کے غزہ میں کام کرنے والے 13000 ‘ اونروا’ کارکنوں میں سے 12 کارکن سات اکتوبر کے حملے میں حماس کے معاون بنے رہے۔

اسرائیل کی طرف سے یہ الزام سامنے آتے ہی امریکہ کی جوبائیڈن انتظامیہ نے غزہ کے بے گھر لاکھوں فلسطینیوں کی انسانی بنیادوں امداد کرنے والے ادارے ‘ اونروا’ کے لیے امریکی فنڈنگ بند کر دی۔ امریکی اقدام کے بعد دوسرے کئی امریکی اتحادیوں نے بھی اسرائیلی الزام کی بنیاد پر تحقیقات شروع ہونے سے بھی پہلے ہی اسرائیلی الزام کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔

اس فیصلے پر مغربی ممالک کا عمل درآمد ابھی جاری ہے جبکہ امریکہ نے فلسطینیوں کے لیے قائم اقوام متحدہ کے اس ادارے کے خلاف مزید جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی قانون سازوں نے جمعرات کے روز 1.2 ٹریلین ڈالر کے فنڈنگ پیکج کا اعلان کیا گیا ہے کہ یہ امریکی حکومت کی رقم موجودہ سال میں بچ جانے والے فنڈز یا اگلے مالی سال کے دوران ‘ اونروا’ کو ادائیگی نہیں کی جائے گی۔’

امریکی قانون سازوں نے یہ منصوبہ جمعہ کی رات سے ختم ہونے والی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے جاری کیا ہے۔ اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکی حکومتی وسائل کے بغیر استعمال کے ہی تین چوتھائی وسائل تحلیل ہونے جارہے تھے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ریپبلکنز اور ڈیمو کریٹس دونوں کے قانون ساز اس معاہدے کی منظوری دے دیں گے اور بعد ازاں جوبائیڈن کی منظوری بھی مل جائے گی۔

ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے کہا اس سے ‘ اونروا’ کے لیے فنڈنگ رک جائے گی۔ جس نے دہشت گردوں کو اپنے ہاں ملازمت دی تھی۔ ایسے دہشت گردوں کو ملازمت دی جنہوں نے سات اکتوبر کو حماس کی مدد کی۔

دوسری جانب ‘ اونروا ‘ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے غزہ میں کام کرنے والے 13000 ملازمین میں سے 12 کی ملازمت ختم کر دی ہے اور انکوائری کے بعد حتمی فیصلہ تحقیقات کے بعد اقوام متحدہ کرے گا۔ ادھر اسرائیل نے پچھلے دنوں ‘ اونروا’ سربراہ فلپ لازا رینی کو غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

اس سے پہلے یہ خبریں آچکی ہیں کہ اسرائیل نے انسانی حقوق کے اداروں اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے لگ بھگ 50 اداروں کے سربراہوں کو ویزے دینے کا معاملہ لٹکا رکھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *